ملا وجہی
(م۔ 1659) ملا وجہی نے اپنے مربی و سرپرست سلطان محمد قلی قطب شاہ کی طرح بہت سے تخلص استعمال کیے ہیں۔ اسکے بعض اشعار میں وجیہہ، وجمہا، وجہی اور وجمہی تخلص موجود ہیں۔ وجہی نے اپنے ایک فارسی شعر میں بتایا ہے کہ انکی پیدائش ہندوستان میں ہوئی لیکن اسکا آبائی وطن خراساں ہے۔ وجہی نے"قطب مشتری" میں دکن اور تلنگانہ کی بڑی تعریف کی ہے۔ اسلیے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ دکن ہی انکا مقام پیدائش ہو۔ وہ غالباً ابراہیم قطب شاہ کے عہد میں پیدا ہوئے تھے۔ وجہی نے گولکنڈے کے چار حکمرانوں ابراہیم قطب شاہ، محمد قلی قطب شاہ، محمد قطب شاہ اور عبداللہ قطب شاہ کا عہد دیکھا تھا۔ انکی زندگی کا دور زریں محمد قلی قطب شاہ کا زمانہ حکومت تھا۔ وہ ملک الشعرا اور بادشاہ کا منظور نظر فنکار بن چکے تھے۔ وجہی نے شعر میں روح الامین کو اپنا استاد کہا ہے۔ ابراہیم قطب شاہ کے عہد میں روح الامین تخلص کا ایک فارسی شاعر بھی موجود تھا۔ لیکن یہ بتانا مشکل ہے کہ وجہی نے اس شعر میں خود کو فارسی شاعر روح الامین کا شاگرد کہا ہے یا روح الامین سے انکی مراد جبرائیل ہیں۔ محمد قطب شاہ کے دور حکومت میں وجہی نے زندگی گوشہ گمنامی میں گزاری۔ نہایت عسرت اور تنگدستی کے ساتھ زندگی بسر کی۔
وجہی نے مثنوی"قطب مشتری" میں دعوی کیا ہے کہ میں نے اپنے پیشتر و ہمعصر شعرا کے خلاف ایک طبع زاد قصہ نظم کیا ہے۔ اس مثنوی کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ اس میں وجہی نے"درشرح شعر گوید" کے عنوان سے شعروادب سے متعلق اپنے تنقیدی خیالات ظاہر کیے ہیں۔ قطب مشتری کے ہیرو کو شاعر نے محمد قلی قطب شاہ کے نام سے پکارا ہے۔ لیکن اس مثنوی کے قصے کا محمد قلی کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وجہی سے ایک اور مثنوی"ماہ سیما و پری رخ" بھی منسوب کی جاتی ہے۔ گارساں دتاسی نے اپنے خطبات میں اسکا ذکر کیا ہے۔ "سب رس" کو ادبی نثر کا پہلا نمونہ کہا جاتا ہے۔ اپنے منفرد اسلوب میں وجہی نے اس قصے کو ایک تمثیلی و رمزیہ معنویت کا پیرایہ عطا کیا ہے۔ مقفیٰ و مسجع جملوں، اسلوب کی شیرینی وشگفتگی اور انشاپردازی نے سب رس کو ایک سدابہار تخلیق بنا دیا ہے۔ یہ کتاب تصوف کے مسائل پر ہے۔ وجہی کو اردو ادب کے عظیم ناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
جناب مُلّا وجہیؔ دور اول کے اردو نثر نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اردو نثر کا آغاز اگرچہ ۷۵۸ ہجری سے ہو چکا تھا، تاہم اس دور میں صرف ایک تصنیف ’’معراج العاشقین’’ از حضرت گیسو دراز بتائی جاتی ہے۔ تاہم ’’سب رس’’ کو اردو کی پہلی مستقل تصنیف سمجھا گیا ہے، جو انھوں نے ۱۰۴۸ہجری مطابق ۱۶۳۸ عیسوی میں تصنیف کی۔ مُلّا وجہیؔ عبداللہ شاہ والئی گولگنڈہ کا درباری شاعر اور نثر نگار تھا۔ ’’قطب مشتری’’ ان کی مشہور مثنوی ہے جس میں انھوں نے سلطان قلی قطب شاہ کے عشق کو موضوع بنایا ہے۔
قطب شاہی بادشاہوں کے عہد میں دکنی یعنی قدیم اردو کو بہت فروغ ہوا۔ یہ لوگ علم و ہنر کے بڑے سر پرست تھے اور شعرا ء و علماء ان کے دربار کی رونق تھے۔ خود ان میں سے بعض بڑے پائے کے شاعر ہوئے ہیں۔ سلطان محمد قلی قطبؔ شاہ جسے اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر مانا جاتا ہے، اس کا ضخیم کلیات اس کی قادرالکلامی اور وسیع النظری پر دلالت کرتاہے۔ اردو میں اس سے قبل کا ایسا پاکیزہ کلام دریافت نہیں ہوا ہے۔ اس کا بھتیجا اور جانشین محمد قطب شاہ بھی اردو کا بہت اچھا شاعر ہوا ہے۔ پھر اس کا جانشیں عبداللہ قطب ؔ شاہ بھی اپنے باپ دادا کی طرح اردو کا سخنور تھا۔ اس کے عہد میں علم کا بہت چرچا تھا اور بعض بڑے فاضل اور شاعر اس کے دربار سے تعلق رکھتے تھے۔ فارسی لغت کی مشہور اور مقبول کتاب’’برہان قاطع’’ اس کے عہد میں لکھی گئی اور طب کی بعض مشہور کتابیں اس زمانے کی تالیف ہیں اور اسی بادشاہ کے نام سے منسوب ہیں اور مُلّا نظام الدین احمد نے اپنی کتاب ’’حدیقتہ السلاطین’’ میں اس کے حالات لکھے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے عہد میں بہت سے علماء نے بھی اپنی کتابیں اسی بادشاہ کے نام سے معنون کی ہیں۔ اس سے اس کی علم پروری اور علمی ذوق کا پتہ لگتا ہے۔ مُلّا غواصیؔ، ابن نشاطیؔ، قطبی، مقیمیؔ اور جنیدیؔ وغیرہ سب اُسی کے دربار سے وابستہ تھے۔
کتاب ’’سب رس’’ میں مُلّا وجہیؔ نے ایک عام اور عالمگیر حقیقت کو مجاز کے پیرائے میں بیان کیا ہے اور حسن و عشق کی کشمکش اور عشق و دل کے معرکے کو قصے کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ’’سب رس’’ کا دیباچہ پڑھنے سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ اسی کی ایجاد ہے اور اس کے دماغ کی اپج ہے۔حالانکہ یہ بات نہیں۔ یہ پُر لطف داستان سب سے پہلے محمد یحییٰ ابن سیبک فتاحی نیشا پوری نے لکھی۔ یہ نیشا پورکا علاقہ خراساں کے مشاہیر میں ہے اور شاہ رخؔ مرزا کے عہد میں تھے اور فتاحی ؔ تخلص کرتے تھے۔ یہ بہت فاضل اور قادر الکلام شاعر تھے۔ علاوہ دیوان کے ان کی کئی تصنیفات بھی ہیں۔ ان میں سے ایک ’’دستور العشاق’’ یعنی حسن و دل کا قصہ ہے۔ دستور العشاق قصہ مثنوی ہے جس میں پانچ ہزار اشعار ہیں۔ اس قصے کو مصنف نے ’’شبستان خیال’’ اور ’’حسن دل’’ کے نام سے الگ الگ بھی لکھا ہے لیکن یہ دونوں دستور عشاق کے بعد لکھی گئی ہیں۔ ’’حسن و دل’’ جو بہت مشہور ہوئی، نثر میں دستور عشاق کا خلاصہ ہے۔ اس کی مسجع اور مقفیٰ اور صنائع بدائع کی اس میں خوب داددی ہے۔
ایک عرصے تک ’’سب رس’’ کو طبع زاد کتاب کہا جاتا رہا ہے لیکن بعد میں جانچ پڑتال اور تحقیق سے ثابت ہوا کہ گرچہ وجہی ؔ نے اس قصے کو نہایت احسن انداز میں ایک تخلیقی صورت میں پیش کیا ہے لیکن اصل میں یہ تمثیلی قصہ فارسی کی مشہور کتاب’’دستور العشاق’’ سے لیا گیا ہے جس کو فتاحی نیشاپوری نے تصنیف کیا گو کہ مُلّا وجہیؔ نے قصے کی اصل کی طرف کہیں اشارہ نہیں کیا ، مگر دونوں کتابوں کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وجہیؔ نے قصے کی واردات حرف بہ حرف فتاحیؔ سے لی ہے اور اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہیں کیا ہے تو یہ کہ جابجاموقع بے موقع پندو نصیحت اور موعظمت کا دفتر کھول دیا ہے جس کا اصل کتاب میں نام و نشان نہیں۔
مُلّا وجہی اپنے زمانے کا قادر الکلام شاعر ہی نہیں بلکہ بے مثل ادیب بھی تھا۔ نظم و نثر میں اس کی تصانیف اس کے علم و فضل اور کا بیّن ثبوت ہیں۔ اسلامی علوم والسنہ کے علاوہ ہندوستانی زبانوں میں بھی اسے کافی دسترس حاصل تھی۔ مرہٹی، گوجری یعنی گجراتی اور اردو کے ساتھ ساتھ برج بھاشا کے لٹریچر سے وہ آشنا تھا۔ امیر خسرو کے ہندی کلام سے بھی آگاہی رکھتا تھا۔ لہٰذا وجہیؔ کے ادبی ذوق یا مذاق کا کیا کہنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وجہیؔ کو زبان دانی، زبان تراشی اور لغت سازی میں قدرت حاصل تھی۔
کتاب ’’سب رس’’ کی زبان تقریباً تین صدی پہلے کی زبان ہے اور وہ بھی دکن کے بہت سے الفاظ اور محاورات ایسے ہیں جو اب بالکل متروک ہیں اور خود اہل دکن بھی نہیں سمجھتے۔ عربی اور فارسی الفاظ کے ساتھ ہندی الفاظ بکثرت استعمال ہوتے ہیں اور بعض محاورات آج بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً شان نہ گمان، خالہ کا گھر، کہاں راجہ بھوگ اور کہاں گنگوا تیلی،گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے وغیرہ۔ علاوہ ازیں اردو زبان کی صرف و نحو اور بعض الفاظ کے تغیر و تبدل کابھی پتہ چلتا ہے۔ مذکر اور مؤنث کی جمع ’’اں’’ سے آئی ہے جیسے باتاں، جھاراں اور کتاباں وغیرہ۔ بھائی کی جمع بھائیاں۔ ایسے افعال متعدی جن کی ماضی مطلق ، ماضی قریب، ماضی بعید، ماضی احتمالی کے ساتھ ’’نے’’ آتاہے تو فعل ہر حالت میں مذکر ہی استعمال ہوتا ہے۔ خواہ فاعل مؤنث ہی کیوں نہ ہو لیکن دکن میں مذکر کے لیے مذکر اور مؤنث کے لیے مؤنث فعل ہوتا ہے، جیسے اس عورت نے کہی، لڑکی نے پانی پی۔ لیکن ’’نے’’ کا استعمال بہت بے قاعدہ ہے۔ اس حرف کے استعمال کے قواعد بعد میں منضبط ہوئے۔ میر تقی میر اور مرزا رفیع سودا وغیرہ کے زمانے میں بھی یہی بے قاعدگی پائی جاتی تھی۔ جیسے رقیب نے، روسیاہ نے اور بے نصیب نے وغیرہ۔
(سب رس)۔
پروفیسر افتخار احمد شاہ اپنے مضمون ”دکن میں اسالیب نثر “ میں لکھتے ہیں
سب رس اپنے موضوع ، زبان اور اسلوب کے اعتبار سے ایک ایسی تصنیف ہے کہ جسے اس دور کی جملہ تصانیف میں سب سے زیادہ ادبی اہمیت کی مالک ہونے کا مقام حاصل ہے۔ جسے موضوع کی دلچسپی ، جذبے کی موجودگی، زبان کی دلکشی اور اسلوب کی انفرادیت پر خالص ادبی تحریر قرار دیا جاسکتا ہے۔
سب رس ایک تمثیل:۔
سب رس کو عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش پر وجہی نے لکھا۔ اس کتاب کو اردو نثر کی اولین کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔یہ وجہی کہ اپنی طبع ذاد نہیں اس کتاب میں فتاحی نیشاپوری کی مثنوی ”دستور العشاق“(نظم )اور ”قصہ حسن ودل “ کو نثر کےپیرائے میں تمثیل کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ تمثیل انشاءپردازی کی اس طرز کو کہتے ہیں جس میں کسی تشبیہ یا استعارہ کو یا انسان کے کسی جذبے مثلاً غصہ،نفرت، محبت وغیرہ کو مجسم کرکے یا دیوی دیوتاؤں کے پردے میں کوئی قصہ گھڑ لیا جاتا ہے۔ یہ قصہ صوفیانہ مسلک کا آئینہ دار ہے۔ مگر اپنے اسلوب اور بیان میں سب رس ایک کامیاب تمثیل ہے۔ اس میں حسن و دل اور عقل و دل کی جنگ کو بڑی خوبصورت اور کامیاب تمثیل کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔
سنگ میل:۔
سب رس اردو نثر کا سب سے ممتاز اور ترقی یافتہ شاہکارہے۔ اس میں اسلوب بیان نے ایک خاص انگڑائی لی ہے اور زندگی کی آنکھ کھولی ہے۔ سب رس سے پہلے جو نمونے اردو نثر میں ملتے ہیں ۔ اسے اردو نثر کا دور بدویت کہا جاسکتا ہے۔ یعنی اس دور میں وہ انداز بیان تھا جس میں لہجے کا دیہاتی پن، کہنے کا سادہ بے تکلف اور درست انداز اور آرائش کی ہر کوشش سے آزاد تھا ۔جتنے لوگوں نے اس زمانے میں لکھا، مذہبی مسائل پر لکھا اور ان کے مخاطب عوام تھے جن تک بات پہنچانا مقصود تھا۔ اس لیے سادگی ، سلاست و راست بیانی کے علاوہ شیرازہ بندی اور فقروں کی ساخت سے بے پروائی کا رویہ عام تھا۔ مگر ”سب رس“ اردو نثر کا ایک ایسا سنگ میل ہے جس میں اس بات کی کوشش نظر آتی ہے کہ مصنف اپنی بات کو موثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
اسلوب:۔
سب رس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی ترقی یافتہ زبان اور اس کا اسلوب بیان ہے۔ سب رس میں پہلی دفعہ زبان اردو کی ایک ترقی یافتہ صورت ہمارے سامنے آئی اور پہلی دفعہ زبان کے ایسے اسالیب اور زبان کے ایسے ایسے خصائص وجودمیں آئے جن کی بنا پر ”سب رس“ کی زبان اس سے پہلے کے مصنفوں کی زبان سے اور اپنے معاصروں کی زبان و اسلوب سے علیحدہ ہو گئی۔ پروفیسر شیرانی لکھتے ہیں جو چیز ”سب رس “ کو ہماری نگاہ میں سب سے زیادہ قیمتی بناتی ہے۔ وہ اس کے اسالیب ہیں۔ جب ہم ان اسالیب کا موجودہ زبان سے مقابلہ کرتے ہیں توآج کی زبان میں اور اس زبان میں خفیف سا فرق معلوم ہوتا ہے۔
قافیہ بندی:۔
وجہی نے اپنے ترقی یافتہ اسلوب بیان میں قافیہ بندی کا بڑا خیال رکھا ہے۔ وجہی کی عبارتوں میں دو دو تین تین جملے عام طور پر باہم قافیہ دار ہوتے ہیں۔ اسے مسجع اور مقفٰی نثر کا بڑا شوق ہے۔ یہ شوق شاید قران پاک کی تلاوت سے پیدا ہوا۔ فارسی کے تتبع میں بھی وجہی نے مقفٰی او ر مسجع عبارت لکھی ۔”سب رس“ میں تقریباً ہر فقرہ دوسرے فقرے کے ساتھ ہم قافیہ نظرآتا ہے۔مثلاً یو کتاب سب کتاباں کا سرتاج ، سب باتاں کا راج، ہر بات میں سو سو معراج ، اس کا سواد سمجے نا کوئی عاشق باج، اس کتاب کی لذت پانے عالم سب محتاج۔
نثر میں شاعری:۔
سب رس پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے گویا غزل کے مصرعوں کی نثر بنادی گئی ہو اور اصل کتاب دیکھیں تو اس میں مقفی اور مسجع عبارت کی بنا پر شاعری کا گماں ہوتا ہے۔ اردو نثر میں اگر رنگین نگاری کا سراغ لگانا مقصود ہو تو نیاز فتح پوری اور یلدرم کے بجائے ملاوجہی تک جانا ہوگا ۔مثال کے طور پر قدرت کا دھنی سہی جو کرتا سو سب وہی ۔ خدا بڑا ، خداکی صفت کرے کوئی کب تک، وحدہ لاشریک ، ماں نہ باپ
فارسی اور عربی کااثر:۔
وجہی کی عبارتوں میں عربی فارسی ضرب الامثال بکثرت موجود ہیں بلکہ ا س نے عربی فارسی ترکیبوں کو اردو میں جذب کرکے زبان کا ڈھانچہ تیار کیا اور پھر ہندوستان بھر کی زبانوں کے مطالعے کی وجہ سے ہر خطے کی زبان اورخصوصاً شمالی ہند کے محاورے کو اپنے ہاں جگہ دی اور ایک وسیع تر زبان کی بنیاد رکھی ۔ وجہی نے اس تجربے سے ثابت کر دیا کہ اردو زبان دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وجہی نے اردو زبان کے بارے میں یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ ایک اور آہنگ بھی تیار ہو سکتا ہے۔ وجہی کی زبان آج کل کی زبان کے بہت قریب ہے۔ اس لیے اس میں عربی فارسی کے الفاظ کثرت سے ملتے ہیں۔
دانایاں میں یوں چل ہے بات، المعقل نصف الکرمات
صرفی نحوی خصوصیات:۔
سب رس “ کے متن میں صرفی نحوی نکات جس مہارت سے استعمال ہوئے ہیں ان سے ”سب رس“ کی صرفی و نحوی خصوصیات کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ مثلا ایک طرف اگر عربی الفاظ کے املا کو سادہ کر دیا گیا ہے تو دوسری طرف فارسی میں گی کا لاحقہ استعمال کرکے بعض الفاظ بنائے گئے ہیں۔ مثلاً بندہ سے بندگی وغیرہ۔ بقول حافظ محمود شیرانی ادبی پہلو سے قطع نظر اور اوصاف میں جن کی بناءپر یہ کتاب گونا گوں دلچسپیوں کا مرکز بن جاتی ہے۔ لغت و لسان اورقدیم صرف و نحو کے محقق اس کو نعمت غیر متبرقہ سمجھیں گے۔ بالخصوص اس کا وہ حصہ جو قدیم محاورات اور ضرب الامثال سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔
اردو کے نقوش:۔
سب رس کی زبان کو اس کا مصنف ہندی زبان کے نام سے یاد کرتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس زمانے میں ہندی زبان (شمالی ہند کی زبان، کا دکن والوں پر اتنا اثر پڑ چکا تھا کہ دکن کا مصنف اس زبان کو گجری ، گجراتی یا دکنی زبان کہنے کی بنائے ہندی زبان کہتا ہے۔ بظاہر تو یہ معمولی بات ہے لیکن دراصل یہ اس حقیقت کی داعی ہے کہ ”اردویت “ نے سب سے پہلے نمایاں طور پر اس کتاب کے زمانے میں اور اس کے زیر اثر ہی دکن میں زور پکڑا۔ شمالی ہندمیںمغلوں سے پہلے کے سلاطین کے دور میں جو زبان رائج تھی ۔ اس میں عربی فارسی کے الفاظ تو مل جاتے ہیں لیکن اس کا نقش مسلمانی نہیں ہے اور اردو زبان کی روح اور سپرٹ مسلمانی ہے۔ وجہی نے اپنے زمانہ کی بامحاورہ اور فصیح ترین زبان لکھی اور اس کا اس کو احساس بھی تھا۔ وہ خود لکھتا ہے آج لگن کوئی اس جہاں میں ہندوستان میں ہندی زبان سوں اس لطافت اور اس چھنداں سوں نظم ہور نثر ملا کر گھلا کر نہیں بولیا۔
سب رس کی زبان :۔
سب رس کی زبان تقریبا چار سو سال پرانی اور وہ بھی دکن کی ہے۔ اس میں بہت سے الفاظ ایسے بھی ہیں جو اب بالکل متروک ہیں اور خود اہل دکن بھی نہیں بولتے اور اس پرانی اور قدیم زبان کے بعض پرانے الفاظ خود اہل دکن بھی نہیں بولتے اور پرانی اور قدیم زبان کے بعض پرانے الفاظ و محاورات آجکل سمجھ میں نہیں آتے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وجہی نے اپنے زمانے کی بامحاورہ اور فصیح ترین زبان لکھی اور اس بات کا خود اسے بھی احساس تھا۔ وجہی نے عربی فارسی الفاظ کے ساتھ ہندی الفاظ بکثرت استعمال کیے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ چارسو سال قبل بھی بالکل اسی طرح استعمال کیے جس طرح آجکل ہو رہے ہیں۔
شان نہ گمان، خالہ کا گھر ، کہاں گنگا تیلی کہاں راجہ بھوج، شرم حضوری ، اور دیکھا دیکھی ، گھر کا بھیدی تے لنکا جائے، دھو کا جلیا چھاچھ پھونک پیتا وغیرہ وغیرہ
لسانی اہمیت :۔
سب رس اور وجہی کے معاصرین کے ذریعے ہماری اردو نے جڑ پکڑی۔ سب رس کا لسانی دائرہ بھی کافی وسیع ہے۔ اس میں شمالی ہند کی زبانوں برج بھاشا ، گوالیاری ، راجستھانی اور دوسری زبانوں کے محاورے ، ضرب الامثال اور اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ وجہی نے شمالی ہند اور جنوبی ہند کی زبانوں کی خلیج مٹانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ میر تقی میر نے دکنی زبانوں کو توجہ کے قابل نہیں سمجھا اور اسے ”نثر بے رتبہ “ کہہ کر نظرانداز کر دیا۔ لیکن ”سب رس“ کی لسانی حیثیت مسلمہ ہے۔ اس نے باب مراتب اور فرق مراتب ختم کرکے ایک نئی زبان دی ہے۔ وجہی کی نثر کو اگر آج بھی غور سے پڑھا جائے توہم تقریباً تمام کی تمام زبان کو سمجھ سکتے ہیں۔
کردار نگاری:۔
کہانی میں کل 76 کردار ہیں جو کہ غیر مجسم کیفیتِ انسانی ہیں جن کو مجسم کرکے پیش کیا گیاہے ۔ یوں یہ کہانی انسانی زندگی کا روزمرہ تماشا ہے اور اسی تماشے کو وجہی نے تمثیل کے روپ میں پیش کیا ہے۔ کسی دیومالا کا سہارا لیے بغیر اپنی کیفیات کو کردار بنا کر پیش کرنے میں یہ خامی ضرور ہے کہ کردار کو اسم بامسمٰی ہونے کی وجہ سے ہم اس کے کردار اور سیرت سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور کسی مختلف عمل کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ وجہی نے اس قصے کو جاندار بنانے کی حتی الوسع کوشش کی ہے اور اس میں وہ کہیں کہیں کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ جہاں کہیں اس نے اپنے کسی کردار کی کردار نگاری کی ہے یا کہیں مکالمہ نگاری کی ہے وہ اس کا اپنا کمال ہے اور اس کا تخلیقی عمل ہے۔ مثلاً حسن کاروپ اس طرح پیش کیا ہے
حسن ناز، اوتار، خوش گفتار، خوش رفتار ، ویدیاں کا سنگار، دل کا آدھار، پھول ڈالی تے خوب لٹکتی ، چلنے میں ہنس کوں ہٹ کئی،روایں تے میٹھی بولی بات، آواز تے قمری کو کر ے مات ، کنول پھو ل کے پنکھڑیاں جیسے ہات ، چمن میں پھول شرم حضور، لاج تے آسمان پر چڑھے۔۔۔
معاشرت کی عکاسی :۔
سب رس میں جابجا اس زمانے کی معاشرت او ر تہذیبی و تمدنی زندگی کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ اس زمانے کے طرز و بود باش ، خوراک ، لباس، وضع قطع، ظروف ، زیورات ، حکومت و حکمت ،تجارت و معیشت غرضیکہ ہر پہلو سے اس زمانے کی معاشرتی زندگی کے آثار کی تصویر نظر آتی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ایک زندہ معاشرے کا ایک نکتہ دان ادیب ہے جس نے اپنے عہد کی معارتی زندگی کو بڑی گہری نظر سے دیکھا ہے اور اس کے خدوخال کو بڑی چابکدستی سے احاطہ تحریر میں لایا ہے۔”سب رس“ اگرچہ ایک تمثیل ہے مگر اس کے مطالعے سے اس عہد کی معاشرتی زندگی، افکار اور رجحانات کی ایک مکمل تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔
سیاسی حالات:۔
وجہی عبداللہ قلی قطب شاہ کا درباری شاعر اور ادیب ہے ۔ وہ دربا ر سے وابستہ تھا اور اس سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ اس لیے اس کی نظر درباری معاملات پر بڑی گہری ہے۔ وہ قدیم ایشائی حکومتوں کے رنگ ڈھنگ اور ان کی سیاسی حکمت عملی سے خوب آگاہ ہے۔ وہ ان قدیم مطلق العنان حکومتوں کے درباروں میں ہر قسم کی سیاسیسازشوں اور جوڑ توڑ سے واقف ہے یہی وجہ ہے کہ جب قصے میں کبھی دربار سجتا یا سیاسی مسائل پید ا ہوتے ہیں تو وجہی کا قلم اس تمثیل کی آڑ میں اپنے دربارکی تمام تر سیاسی حکمت عملیوں کا ذکر کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ وہ شہزادے کے عام اخلاقی رویوں کا ذکر بھی کرتا ہے اور شہزادی کی شراب نوشی کا جواز بھی تلاش کرتا ہے۔ وہ دربار سرکار کے معاملات سے خوب واقف ہے ۔ اس واقفیت سے اس نے اپنی کتاب میں خوب کام لیا ہے۔
صوفیانہ خیالات، اخلاقی تعلیمات:۔
وجہی نے اس فرضی داستان میں جگہ جگہ صوفیانہ خیالات ، موضوعات ، مذہبی روایات اور اخلاقی تعلیمات کی تبلیغ کی ہے اور یہی روش اس زمانے کے معاشرتی رجحانات کے مطابق تھی۔ چنانچہ عشقیہ واردات کے بیان میں وجہی نے نہایت حزم و احتیاط سے کام لیا ہے۔ کہیں بھی پست خیالات اور عریانی کا مرتکب نہیں ہوا۔ وجہی عالم دین صوفی تھا اور مسلم معاشرے کافرد تھا جس میں نیکی او راخلاق کے مثبت پہلوئوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور منفی پہلوئوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔چنانچہ وجہی نے اپنی کتاب میں اخلاق کے اچھے پہلوئوں کی تعلیم و ترویج پر زور دیا ہے۔ اور اخلاق کے برے پہلوئوں کی برائی کی ہے۔
وجہی پہلا انشائیہ نگار:۔
بھارت میں ڈاکٹر جاوید شسٹ نے ”ملاوجہی کو ”اردو انشائیہ کا باوا آدم قرار دیا ہے۔ اور اسے مونتین کا ہم پلہ ثبات کیا ہے۔ انہوں نے سب رس میں ایسے 21 حصوں کی نشاندہی کی ہے ۔ جن کی بنا پر انہوں نے یہ لکھا
میں ملا وجہی کو اردو انشائیہ کا موجد اور باوا آدم قرار دیتا ہوں اور اس کے ان اکسٹھ انشائیوں کو اردو کے پہلے انشائیے ۔۔۔اردو کے یہ پہلے ایسے انشائیے ہیں جو عالمی انشائیہ کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔
مجموعی جائزہ :۔
زبانیں مقام عروج تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لیتی ہیں۔ ارد و نثر نے تو بہت تیزی سے ارتقائی مسافتوں کو قطع کیا۔ الغرض اس طویل ارتقائی سفر کا نقطہ آغاز”سب رس“ ہے ۔اردو نثر کا خوش رنگ او ر خوش آہنگ نقشہ او ر ہیئت جو آج ہمیں نظر آرہی ہے اس میں ابتدائی رنگ بھرنے کا اعزاز وجہی کو حاصل ہے اور اردو کی نثری ادب میں ”سب رس “ کا درجہ نہایت بلند و بالا اور وقیع ہے۔ ”سب رس “ اگرچہ اولین کوشش مگر بہترین کوشش ہے۔
(م۔ 1659) ملا وجہی نے اپنے مربی و سرپرست سلطان محمد قلی قطب شاہ کی طرح بہت سے تخلص استعمال کیے ہیں۔ اسکے بعض اشعار میں وجیہہ، وجمہا، وجہی اور وجمہی تخلص موجود ہیں۔ وجہی نے اپنے ایک فارسی شعر میں بتایا ہے کہ انکی پیدائش ہندوستان میں ہوئی لیکن اسکا آبائی وطن خراساں ہے۔ وجہی نے"قطب مشتری" میں دکن اور تلنگانہ کی بڑی تعریف کی ہے۔ اسلیے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ دکن ہی انکا مقام پیدائش ہو۔ وہ غالباً ابراہیم قطب شاہ کے عہد میں پیدا ہوئے تھے۔ وجہی نے گولکنڈے کے چار حکمرانوں ابراہیم قطب شاہ، محمد قلی قطب شاہ، محمد قطب شاہ اور عبداللہ قطب شاہ کا عہد دیکھا تھا۔ انکی زندگی کا دور زریں محمد قلی قطب شاہ کا زمانہ حکومت تھا۔ وہ ملک الشعرا اور بادشاہ کا منظور نظر فنکار بن چکے تھے۔ وجہی نے شعر میں روح الامین کو اپنا استاد کہا ہے۔ ابراہیم قطب شاہ کے عہد میں روح الامین تخلص کا ایک فارسی شاعر بھی موجود تھا۔ لیکن یہ بتانا مشکل ہے کہ وجہی نے اس شعر میں خود کو فارسی شاعر روح الامین کا شاگرد کہا ہے یا روح الامین سے انکی مراد جبرائیل ہیں۔ محمد قطب شاہ کے دور حکومت میں وجہی نے زندگی گوشہ گمنامی میں گزاری۔ نہایت عسرت اور تنگدستی کے ساتھ زندگی بسر کی۔
وجہی نے مثنوی"قطب مشتری" میں دعوی کیا ہے کہ میں نے اپنے پیشتر و ہمعصر شعرا کے خلاف ایک طبع زاد قصہ نظم کیا ہے۔ اس مثنوی کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ اس میں وجہی نے"درشرح شعر گوید" کے عنوان سے شعروادب سے متعلق اپنے تنقیدی خیالات ظاہر کیے ہیں۔ قطب مشتری کے ہیرو کو شاعر نے محمد قلی قطب شاہ کے نام سے پکارا ہے۔ لیکن اس مثنوی کے قصے کا محمد قلی کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وجہی سے ایک اور مثنوی"ماہ سیما و پری رخ" بھی منسوب کی جاتی ہے۔ گارساں دتاسی نے اپنے خطبات میں اسکا ذکر کیا ہے۔ "سب رس" کو ادبی نثر کا پہلا نمونہ کہا جاتا ہے۔ اپنے منفرد اسلوب میں وجہی نے اس قصے کو ایک تمثیلی و رمزیہ معنویت کا پیرایہ عطا کیا ہے۔ مقفیٰ و مسجع جملوں، اسلوب کی شیرینی وشگفتگی اور انشاپردازی نے سب رس کو ایک سدابہار تخلیق بنا دیا ہے۔ یہ کتاب تصوف کے مسائل پر ہے۔ وجہی کو اردو ادب کے عظیم ناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
جناب مُلّا وجہیؔ دور اول کے اردو نثر نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اردو نثر کا آغاز اگرچہ ۷۵۸ ہجری سے ہو چکا تھا، تاہم اس دور میں صرف ایک تصنیف ’’معراج العاشقین’’ از حضرت گیسو دراز بتائی جاتی ہے۔ تاہم ’’سب رس’’ کو اردو کی پہلی مستقل تصنیف سمجھا گیا ہے، جو انھوں نے ۱۰۴۸ہجری مطابق ۱۶۳۸ عیسوی میں تصنیف کی۔ مُلّا وجہیؔ عبداللہ شاہ والئی گولگنڈہ کا درباری شاعر اور نثر نگار تھا۔ ’’قطب مشتری’’ ان کی مشہور مثنوی ہے جس میں انھوں نے سلطان قلی قطب شاہ کے عشق کو موضوع بنایا ہے۔
قطب شاہی بادشاہوں کے عہد میں دکنی یعنی قدیم اردو کو بہت فروغ ہوا۔ یہ لوگ علم و ہنر کے بڑے سر پرست تھے اور شعرا ء و علماء ان کے دربار کی رونق تھے۔ خود ان میں سے بعض بڑے پائے کے شاعر ہوئے ہیں۔ سلطان محمد قلی قطبؔ شاہ جسے اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر مانا جاتا ہے، اس کا ضخیم کلیات اس کی قادرالکلامی اور وسیع النظری پر دلالت کرتاہے۔ اردو میں اس سے قبل کا ایسا پاکیزہ کلام دریافت نہیں ہوا ہے۔ اس کا بھتیجا اور جانشین محمد قطب شاہ بھی اردو کا بہت اچھا شاعر ہوا ہے۔ پھر اس کا جانشیں عبداللہ قطب ؔ شاہ بھی اپنے باپ دادا کی طرح اردو کا سخنور تھا۔ اس کے عہد میں علم کا بہت چرچا تھا اور بعض بڑے فاضل اور شاعر اس کے دربار سے تعلق رکھتے تھے۔ فارسی لغت کی مشہور اور مقبول کتاب’’برہان قاطع’’ اس کے عہد میں لکھی گئی اور طب کی بعض مشہور کتابیں اس زمانے کی تالیف ہیں اور اسی بادشاہ کے نام سے منسوب ہیں اور مُلّا نظام الدین احمد نے اپنی کتاب ’’حدیقتہ السلاطین’’ میں اس کے حالات لکھے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے عہد میں بہت سے علماء نے بھی اپنی کتابیں اسی بادشاہ کے نام سے معنون کی ہیں۔ اس سے اس کی علم پروری اور علمی ذوق کا پتہ لگتا ہے۔ مُلّا غواصیؔ، ابن نشاطیؔ، قطبی، مقیمیؔ اور جنیدیؔ وغیرہ سب اُسی کے دربار سے وابستہ تھے۔
کتاب ’’سب رس’’ میں مُلّا وجہیؔ نے ایک عام اور عالمگیر حقیقت کو مجاز کے پیرائے میں بیان کیا ہے اور حسن و عشق کی کشمکش اور عشق و دل کے معرکے کو قصے کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ’’سب رس’’ کا دیباچہ پڑھنے سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ اسی کی ایجاد ہے اور اس کے دماغ کی اپج ہے۔حالانکہ یہ بات نہیں۔ یہ پُر لطف داستان سب سے پہلے محمد یحییٰ ابن سیبک فتاحی نیشا پوری نے لکھی۔ یہ نیشا پورکا علاقہ خراساں کے مشاہیر میں ہے اور شاہ رخؔ مرزا کے عہد میں تھے اور فتاحی ؔ تخلص کرتے تھے۔ یہ بہت فاضل اور قادر الکلام شاعر تھے۔ علاوہ دیوان کے ان کی کئی تصنیفات بھی ہیں۔ ان میں سے ایک ’’دستور العشاق’’ یعنی حسن و دل کا قصہ ہے۔ دستور العشاق قصہ مثنوی ہے جس میں پانچ ہزار اشعار ہیں۔ اس قصے کو مصنف نے ’’شبستان خیال’’ اور ’’حسن دل’’ کے نام سے الگ الگ بھی لکھا ہے لیکن یہ دونوں دستور عشاق کے بعد لکھی گئی ہیں۔ ’’حسن و دل’’ جو بہت مشہور ہوئی، نثر میں دستور عشاق کا خلاصہ ہے۔ اس کی مسجع اور مقفیٰ اور صنائع بدائع کی اس میں خوب داددی ہے۔
ایک عرصے تک ’’سب رس’’ کو طبع زاد کتاب کہا جاتا رہا ہے لیکن بعد میں جانچ پڑتال اور تحقیق سے ثابت ہوا کہ گرچہ وجہی ؔ نے اس قصے کو نہایت احسن انداز میں ایک تخلیقی صورت میں پیش کیا ہے لیکن اصل میں یہ تمثیلی قصہ فارسی کی مشہور کتاب’’دستور العشاق’’ سے لیا گیا ہے جس کو فتاحی نیشاپوری نے تصنیف کیا گو کہ مُلّا وجہیؔ نے قصے کی اصل کی طرف کہیں اشارہ نہیں کیا ، مگر دونوں کتابوں کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وجہیؔ نے قصے کی واردات حرف بہ حرف فتاحیؔ سے لی ہے اور اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہیں کیا ہے تو یہ کہ جابجاموقع بے موقع پندو نصیحت اور موعظمت کا دفتر کھول دیا ہے جس کا اصل کتاب میں نام و نشان نہیں۔
مُلّا وجہی اپنے زمانے کا قادر الکلام شاعر ہی نہیں بلکہ بے مثل ادیب بھی تھا۔ نظم و نثر میں اس کی تصانیف اس کے علم و فضل اور کا بیّن ثبوت ہیں۔ اسلامی علوم والسنہ کے علاوہ ہندوستانی زبانوں میں بھی اسے کافی دسترس حاصل تھی۔ مرہٹی، گوجری یعنی گجراتی اور اردو کے ساتھ ساتھ برج بھاشا کے لٹریچر سے وہ آشنا تھا۔ امیر خسرو کے ہندی کلام سے بھی آگاہی رکھتا تھا۔ لہٰذا وجہیؔ کے ادبی ذوق یا مذاق کا کیا کہنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وجہیؔ کو زبان دانی، زبان تراشی اور لغت سازی میں قدرت حاصل تھی۔
کتاب ’’سب رس’’ کی زبان تقریباً تین صدی پہلے کی زبان ہے اور وہ بھی دکن کے بہت سے الفاظ اور محاورات ایسے ہیں جو اب بالکل متروک ہیں اور خود اہل دکن بھی نہیں سمجھتے۔ عربی اور فارسی الفاظ کے ساتھ ہندی الفاظ بکثرت استعمال ہوتے ہیں اور بعض محاورات آج بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً شان نہ گمان، خالہ کا گھر، کہاں راجہ بھوگ اور کہاں گنگوا تیلی،گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے وغیرہ۔ علاوہ ازیں اردو زبان کی صرف و نحو اور بعض الفاظ کے تغیر و تبدل کابھی پتہ چلتا ہے۔ مذکر اور مؤنث کی جمع ’’اں’’ سے آئی ہے جیسے باتاں، جھاراں اور کتاباں وغیرہ۔ بھائی کی جمع بھائیاں۔ ایسے افعال متعدی جن کی ماضی مطلق ، ماضی قریب، ماضی بعید، ماضی احتمالی کے ساتھ ’’نے’’ آتاہے تو فعل ہر حالت میں مذکر ہی استعمال ہوتا ہے۔ خواہ فاعل مؤنث ہی کیوں نہ ہو لیکن دکن میں مذکر کے لیے مذکر اور مؤنث کے لیے مؤنث فعل ہوتا ہے، جیسے اس عورت نے کہی، لڑکی نے پانی پی۔ لیکن ’’نے’’ کا استعمال بہت بے قاعدہ ہے۔ اس حرف کے استعمال کے قواعد بعد میں منضبط ہوئے۔ میر تقی میر اور مرزا رفیع سودا وغیرہ کے زمانے میں بھی یہی بے قاعدگی پائی جاتی تھی۔ جیسے رقیب نے، روسیاہ نے اور بے نصیب نے وغیرہ۔
(سب رس)۔
پروفیسر افتخار احمد شاہ اپنے مضمون ”دکن میں اسالیب نثر “ میں لکھتے ہیں
سب رس اپنے موضوع ، زبان اور اسلوب کے اعتبار سے ایک ایسی تصنیف ہے کہ جسے اس دور کی جملہ تصانیف میں سب سے زیادہ ادبی اہمیت کی مالک ہونے کا مقام حاصل ہے۔ جسے موضوع کی دلچسپی ، جذبے کی موجودگی، زبان کی دلکشی اور اسلوب کی انفرادیت پر خالص ادبی تحریر قرار دیا جاسکتا ہے۔
سب رس ایک تمثیل:۔
سب رس کو عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش پر وجہی نے لکھا۔ اس کتاب کو اردو نثر کی اولین کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔یہ وجہی کہ اپنی طبع ذاد نہیں اس کتاب میں فتاحی نیشاپوری کی مثنوی ”دستور العشاق“(نظم )اور ”قصہ حسن ودل “ کو نثر کےپیرائے میں تمثیل کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ تمثیل انشاءپردازی کی اس طرز کو کہتے ہیں جس میں کسی تشبیہ یا استعارہ کو یا انسان کے کسی جذبے مثلاً غصہ،نفرت، محبت وغیرہ کو مجسم کرکے یا دیوی دیوتاؤں کے پردے میں کوئی قصہ گھڑ لیا جاتا ہے۔ یہ قصہ صوفیانہ مسلک کا آئینہ دار ہے۔ مگر اپنے اسلوب اور بیان میں سب رس ایک کامیاب تمثیل ہے۔ اس میں حسن و دل اور عقل و دل کی جنگ کو بڑی خوبصورت اور کامیاب تمثیل کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔
سنگ میل:۔
سب رس اردو نثر کا سب سے ممتاز اور ترقی یافتہ شاہکارہے۔ اس میں اسلوب بیان نے ایک خاص انگڑائی لی ہے اور زندگی کی آنکھ کھولی ہے۔ سب رس سے پہلے جو نمونے اردو نثر میں ملتے ہیں ۔ اسے اردو نثر کا دور بدویت کہا جاسکتا ہے۔ یعنی اس دور میں وہ انداز بیان تھا جس میں لہجے کا دیہاتی پن، کہنے کا سادہ بے تکلف اور درست انداز اور آرائش کی ہر کوشش سے آزاد تھا ۔جتنے لوگوں نے اس زمانے میں لکھا، مذہبی مسائل پر لکھا اور ان کے مخاطب عوام تھے جن تک بات پہنچانا مقصود تھا۔ اس لیے سادگی ، سلاست و راست بیانی کے علاوہ شیرازہ بندی اور فقروں کی ساخت سے بے پروائی کا رویہ عام تھا۔ مگر ”سب رس“ اردو نثر کا ایک ایسا سنگ میل ہے جس میں اس بات کی کوشش نظر آتی ہے کہ مصنف اپنی بات کو موثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
اسلوب:۔
سب رس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی ترقی یافتہ زبان اور اس کا اسلوب بیان ہے۔ سب رس میں پہلی دفعہ زبان اردو کی ایک ترقی یافتہ صورت ہمارے سامنے آئی اور پہلی دفعہ زبان کے ایسے اسالیب اور زبان کے ایسے ایسے خصائص وجودمیں آئے جن کی بنا پر ”سب رس“ کی زبان اس سے پہلے کے مصنفوں کی زبان سے اور اپنے معاصروں کی زبان و اسلوب سے علیحدہ ہو گئی۔ پروفیسر شیرانی لکھتے ہیں جو چیز ”سب رس “ کو ہماری نگاہ میں سب سے زیادہ قیمتی بناتی ہے۔ وہ اس کے اسالیب ہیں۔ جب ہم ان اسالیب کا موجودہ زبان سے مقابلہ کرتے ہیں توآج کی زبان میں اور اس زبان میں خفیف سا فرق معلوم ہوتا ہے۔
قافیہ بندی:۔
وجہی نے اپنے ترقی یافتہ اسلوب بیان میں قافیہ بندی کا بڑا خیال رکھا ہے۔ وجہی کی عبارتوں میں دو دو تین تین جملے عام طور پر باہم قافیہ دار ہوتے ہیں۔ اسے مسجع اور مقفٰی نثر کا بڑا شوق ہے۔ یہ شوق شاید قران پاک کی تلاوت سے پیدا ہوا۔ فارسی کے تتبع میں بھی وجہی نے مقفٰی او ر مسجع عبارت لکھی ۔”سب رس“ میں تقریباً ہر فقرہ دوسرے فقرے کے ساتھ ہم قافیہ نظرآتا ہے۔مثلاً یو کتاب سب کتاباں کا سرتاج ، سب باتاں کا راج، ہر بات میں سو سو معراج ، اس کا سواد سمجے نا کوئی عاشق باج، اس کتاب کی لذت پانے عالم سب محتاج۔
نثر میں شاعری:۔
سب رس پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے گویا غزل کے مصرعوں کی نثر بنادی گئی ہو اور اصل کتاب دیکھیں تو اس میں مقفی اور مسجع عبارت کی بنا پر شاعری کا گماں ہوتا ہے۔ اردو نثر میں اگر رنگین نگاری کا سراغ لگانا مقصود ہو تو نیاز فتح پوری اور یلدرم کے بجائے ملاوجہی تک جانا ہوگا ۔مثال کے طور پر قدرت کا دھنی سہی جو کرتا سو سب وہی ۔ خدا بڑا ، خداکی صفت کرے کوئی کب تک، وحدہ لاشریک ، ماں نہ باپ
فارسی اور عربی کااثر:۔
وجہی کی عبارتوں میں عربی فارسی ضرب الامثال بکثرت موجود ہیں بلکہ ا س نے عربی فارسی ترکیبوں کو اردو میں جذب کرکے زبان کا ڈھانچہ تیار کیا اور پھر ہندوستان بھر کی زبانوں کے مطالعے کی وجہ سے ہر خطے کی زبان اورخصوصاً شمالی ہند کے محاورے کو اپنے ہاں جگہ دی اور ایک وسیع تر زبان کی بنیاد رکھی ۔ وجہی نے اس تجربے سے ثابت کر دیا کہ اردو زبان دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وجہی نے اردو زبان کے بارے میں یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ ایک اور آہنگ بھی تیار ہو سکتا ہے۔ وجہی کی زبان آج کل کی زبان کے بہت قریب ہے۔ اس لیے اس میں عربی فارسی کے الفاظ کثرت سے ملتے ہیں۔
دانایاں میں یوں چل ہے بات، المعقل نصف الکرمات
صرفی نحوی خصوصیات:۔
سب رس “ کے متن میں صرفی نحوی نکات جس مہارت سے استعمال ہوئے ہیں ان سے ”سب رس“ کی صرفی و نحوی خصوصیات کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ مثلا ایک طرف اگر عربی الفاظ کے املا کو سادہ کر دیا گیا ہے تو دوسری طرف فارسی میں گی کا لاحقہ استعمال کرکے بعض الفاظ بنائے گئے ہیں۔ مثلاً بندہ سے بندگی وغیرہ۔ بقول حافظ محمود شیرانی ادبی پہلو سے قطع نظر اور اوصاف میں جن کی بناءپر یہ کتاب گونا گوں دلچسپیوں کا مرکز بن جاتی ہے۔ لغت و لسان اورقدیم صرف و نحو کے محقق اس کو نعمت غیر متبرقہ سمجھیں گے۔ بالخصوص اس کا وہ حصہ جو قدیم محاورات اور ضرب الامثال سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔
اردو کے نقوش:۔
سب رس کی زبان کو اس کا مصنف ہندی زبان کے نام سے یاد کرتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس زمانے میں ہندی زبان (شمالی ہند کی زبان، کا دکن والوں پر اتنا اثر پڑ چکا تھا کہ دکن کا مصنف اس زبان کو گجری ، گجراتی یا دکنی زبان کہنے کی بنائے ہندی زبان کہتا ہے۔ بظاہر تو یہ معمولی بات ہے لیکن دراصل یہ اس حقیقت کی داعی ہے کہ ”اردویت “ نے سب سے پہلے نمایاں طور پر اس کتاب کے زمانے میں اور اس کے زیر اثر ہی دکن میں زور پکڑا۔ شمالی ہندمیںمغلوں سے پہلے کے سلاطین کے دور میں جو زبان رائج تھی ۔ اس میں عربی فارسی کے الفاظ تو مل جاتے ہیں لیکن اس کا نقش مسلمانی نہیں ہے اور اردو زبان کی روح اور سپرٹ مسلمانی ہے۔ وجہی نے اپنے زمانہ کی بامحاورہ اور فصیح ترین زبان لکھی اور اس کا اس کو احساس بھی تھا۔ وہ خود لکھتا ہے آج لگن کوئی اس جہاں میں ہندوستان میں ہندی زبان سوں اس لطافت اور اس چھنداں سوں نظم ہور نثر ملا کر گھلا کر نہیں بولیا۔
سب رس کی زبان :۔
سب رس کی زبان تقریبا چار سو سال پرانی اور وہ بھی دکن کی ہے۔ اس میں بہت سے الفاظ ایسے بھی ہیں جو اب بالکل متروک ہیں اور خود اہل دکن بھی نہیں بولتے اور اس پرانی اور قدیم زبان کے بعض پرانے الفاظ خود اہل دکن بھی نہیں بولتے اور پرانی اور قدیم زبان کے بعض پرانے الفاظ و محاورات آجکل سمجھ میں نہیں آتے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وجہی نے اپنے زمانے کی بامحاورہ اور فصیح ترین زبان لکھی اور اس بات کا خود اسے بھی احساس تھا۔ وجہی نے عربی فارسی الفاظ کے ساتھ ہندی الفاظ بکثرت استعمال کیے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ چارسو سال قبل بھی بالکل اسی طرح استعمال کیے جس طرح آجکل ہو رہے ہیں۔
شان نہ گمان، خالہ کا گھر ، کہاں گنگا تیلی کہاں راجہ بھوج، شرم حضوری ، اور دیکھا دیکھی ، گھر کا بھیدی تے لنکا جائے، دھو کا جلیا چھاچھ پھونک پیتا وغیرہ وغیرہ
لسانی اہمیت :۔
سب رس اور وجہی کے معاصرین کے ذریعے ہماری اردو نے جڑ پکڑی۔ سب رس کا لسانی دائرہ بھی کافی وسیع ہے۔ اس میں شمالی ہند کی زبانوں برج بھاشا ، گوالیاری ، راجستھانی اور دوسری زبانوں کے محاورے ، ضرب الامثال اور اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ وجہی نے شمالی ہند اور جنوبی ہند کی زبانوں کی خلیج مٹانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ میر تقی میر نے دکنی زبانوں کو توجہ کے قابل نہیں سمجھا اور اسے ”نثر بے رتبہ “ کہہ کر نظرانداز کر دیا۔ لیکن ”سب رس“ کی لسانی حیثیت مسلمہ ہے۔ اس نے باب مراتب اور فرق مراتب ختم کرکے ایک نئی زبان دی ہے۔ وجہی کی نثر کو اگر آج بھی غور سے پڑھا جائے توہم تقریباً تمام کی تمام زبان کو سمجھ سکتے ہیں۔
کردار نگاری:۔
کہانی میں کل 76 کردار ہیں جو کہ غیر مجسم کیفیتِ انسانی ہیں جن کو مجسم کرکے پیش کیا گیاہے ۔ یوں یہ کہانی انسانی زندگی کا روزمرہ تماشا ہے اور اسی تماشے کو وجہی نے تمثیل کے روپ میں پیش کیا ہے۔ کسی دیومالا کا سہارا لیے بغیر اپنی کیفیات کو کردار بنا کر پیش کرنے میں یہ خامی ضرور ہے کہ کردار کو اسم بامسمٰی ہونے کی وجہ سے ہم اس کے کردار اور سیرت سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور کسی مختلف عمل کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ وجہی نے اس قصے کو جاندار بنانے کی حتی الوسع کوشش کی ہے اور اس میں وہ کہیں کہیں کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ جہاں کہیں اس نے اپنے کسی کردار کی کردار نگاری کی ہے یا کہیں مکالمہ نگاری کی ہے وہ اس کا اپنا کمال ہے اور اس کا تخلیقی عمل ہے۔ مثلاً حسن کاروپ اس طرح پیش کیا ہے
حسن ناز، اوتار، خوش گفتار، خوش رفتار ، ویدیاں کا سنگار، دل کا آدھار، پھول ڈالی تے خوب لٹکتی ، چلنے میں ہنس کوں ہٹ کئی،روایں تے میٹھی بولی بات، آواز تے قمری کو کر ے مات ، کنول پھو ل کے پنکھڑیاں جیسے ہات ، چمن میں پھول شرم حضور، لاج تے آسمان پر چڑھے۔۔۔
معاشرت کی عکاسی :۔
سب رس میں جابجا اس زمانے کی معاشرت او ر تہذیبی و تمدنی زندگی کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ اس زمانے کے طرز و بود باش ، خوراک ، لباس، وضع قطع، ظروف ، زیورات ، حکومت و حکمت ،تجارت و معیشت غرضیکہ ہر پہلو سے اس زمانے کی معاشرتی زندگی کے آثار کی تصویر نظر آتی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ایک زندہ معاشرے کا ایک نکتہ دان ادیب ہے جس نے اپنے عہد کی معارتی زندگی کو بڑی گہری نظر سے دیکھا ہے اور اس کے خدوخال کو بڑی چابکدستی سے احاطہ تحریر میں لایا ہے۔”سب رس“ اگرچہ ایک تمثیل ہے مگر اس کے مطالعے سے اس عہد کی معاشرتی زندگی، افکار اور رجحانات کی ایک مکمل تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔
سیاسی حالات:۔
وجہی عبداللہ قلی قطب شاہ کا درباری شاعر اور ادیب ہے ۔ وہ دربا ر سے وابستہ تھا اور اس سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ اس لیے اس کی نظر درباری معاملات پر بڑی گہری ہے۔ وہ قدیم ایشائی حکومتوں کے رنگ ڈھنگ اور ان کی سیاسی حکمت عملی سے خوب آگاہ ہے۔ وہ ان قدیم مطلق العنان حکومتوں کے درباروں میں ہر قسم کی سیاسیسازشوں اور جوڑ توڑ سے واقف ہے یہی وجہ ہے کہ جب قصے میں کبھی دربار سجتا یا سیاسی مسائل پید ا ہوتے ہیں تو وجہی کا قلم اس تمثیل کی آڑ میں اپنے دربارکی تمام تر سیاسی حکمت عملیوں کا ذکر کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ وہ شہزادے کے عام اخلاقی رویوں کا ذکر بھی کرتا ہے اور شہزادی کی شراب نوشی کا جواز بھی تلاش کرتا ہے۔ وہ دربار سرکار کے معاملات سے خوب واقف ہے ۔ اس واقفیت سے اس نے اپنی کتاب میں خوب کام لیا ہے۔
صوفیانہ خیالات، اخلاقی تعلیمات:۔
وجہی نے اس فرضی داستان میں جگہ جگہ صوفیانہ خیالات ، موضوعات ، مذہبی روایات اور اخلاقی تعلیمات کی تبلیغ کی ہے اور یہی روش اس زمانے کے معاشرتی رجحانات کے مطابق تھی۔ چنانچہ عشقیہ واردات کے بیان میں وجہی نے نہایت حزم و احتیاط سے کام لیا ہے۔ کہیں بھی پست خیالات اور عریانی کا مرتکب نہیں ہوا۔ وجہی عالم دین صوفی تھا اور مسلم معاشرے کافرد تھا جس میں نیکی او راخلاق کے مثبت پہلوئوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور منفی پہلوئوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔چنانچہ وجہی نے اپنی کتاب میں اخلاق کے اچھے پہلوئوں کی تعلیم و ترویج پر زور دیا ہے۔ اور اخلاق کے برے پہلوئوں کی برائی کی ہے۔
وجہی پہلا انشائیہ نگار:۔
بھارت میں ڈاکٹر جاوید شسٹ نے ”ملاوجہی کو ”اردو انشائیہ کا باوا آدم قرار دیا ہے۔ اور اسے مونتین کا ہم پلہ ثبات کیا ہے۔ انہوں نے سب رس میں ایسے 21 حصوں کی نشاندہی کی ہے ۔ جن کی بنا پر انہوں نے یہ لکھا
میں ملا وجہی کو اردو انشائیہ کا موجد اور باوا آدم قرار دیتا ہوں اور اس کے ان اکسٹھ انشائیوں کو اردو کے پہلے انشائیے ۔۔۔اردو کے یہ پہلے ایسے انشائیے ہیں جو عالمی انشائیہ کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔
مجموعی جائزہ :۔
زبانیں مقام عروج تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لیتی ہیں۔ ارد و نثر نے تو بہت تیزی سے ارتقائی مسافتوں کو قطع کیا۔ الغرض اس طویل ارتقائی سفر کا نقطہ آغاز”سب رس“ ہے ۔اردو نثر کا خوش رنگ او ر خوش آہنگ نقشہ او ر ہیئت جو آج ہمیں نظر آرہی ہے اس میں ابتدائی رنگ بھرنے کا اعزاز وجہی کو حاصل ہے اور اردو کی نثری ادب میں ”سب رس “ کا درجہ نہایت بلند و بالا اور وقیع ہے۔ ”سب رس “ اگرچہ اولین کوشش مگر بہترین کوشش ہے۔
عمدہ انتخاب
ReplyDeleteبہت اچھے
ReplyDelete